جامع الترمذي حدیث نمبر: 3057
Jami at-Tirmidhi 3057
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
6: باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ
باب: سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَنَّهُ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا ظَالِمًا فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ مِنْهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ مَرْفُوعًا، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، قَوْلَهُ: وَلَمْ يَرْفَعُوهُ.
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : اے لوگو ! تم یہ آیت پڑھتے ہو «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» ۱؎ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا بھی ہے کہ جب لوگ ظالم کو ( ظلم کرتے ہوئے ) دیکھیں پھر بھی اس کے ہاتھ پکڑ نہ لیں ( اسے ظلم کرنے سے روک نہ دیں ) تو قریب ہے کہ ان پر اللہ کی طرف سے عمومی عذاب آ جائے ( اور وہ ان سب کو اپنی گرفت میں لے لے ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- کئی ایک نے یہ حدیث اسماعیل بن خالد سے مرفوعاً اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے ، ¤ ۳- بعض لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے بلکہ ابوبکر رضی الله عنہ کے قول کے طور پر اسماعیل سے ، اسماعیل نے قیس سے اور قیس نے ابوبکر سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3057]
💡 وضاحت:
۱؎: مسلمانو! تمہارے ذمہ ہے اپنے آپ کو بچانا اور سنبھالنا، جب تم سیدھی راہ پر رہو گے تو تمہیں گمراہ شخص نقصان نہ پہنچا سکے گا (المائدہ: ۱۰۵)۔
۲؎: یعنی اپنے آپ کو بچانے اور سنبھالنے کے لیے ضروری ہے کہ ظالم کو ظلم سے روک دیا جائے ایسا نہ کرنے سے اللہ کی طرف سے عمومی عذاب آنے کا خطرہ ہے پھر وہ سب کو اپنی گرفت میں لے لے گا۔
۲؎: یعنی اپنے آپ کو بچانے اور سنبھالنے کے لیے ضروری ہے کہ ظالم کو ظلم سے روک دیا جائے ایسا نہ کرنے سے اللہ کی طرف سے عمومی عذاب آنے کا خطرہ ہے پھر وہ سب کو اپنی گرفت میں لے لے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح مضى برقم (2257)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 2168 (صحیح)