جامع الترمذي حدیث نمبر: 3056
Jami at-Tirmidhi 3056
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
6: باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ
باب: سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟ قَالَ: " أَبُوكَ فُلَانٌ، فَنَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا باپ کون ہے ۱؎ آپ نے فرمایا : ” تمہارا باپ فلاں ہے ، راوی کہتے ہیں : پھر یہ آیت نازل ہوئی : «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» ” اے ایمان والو ! ایسی چیزیں مت پوچھا کرو کہ اگر وہ بیان کر دی جائیں تو تم کو برا لگے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3056]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ عبداللہ بن حذافہ سہمی ہیں، سوال اس لیے کرنا پڑا کہ لوگ انہیں غیر باپ کی طرف منسوب کر رہے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر المائدة 12 (4621)، والاعتصام 3 (7295)، صحیح مسلم/الفضائل 37 (2359) (تحفة الأشراف: 1608) (صحیح)