جامع الترمذي حدیث نمبر: 3034
Jami at-Tirmidhi 3034
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
5: باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ
باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ: أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101، وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ، فَقَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی الله عنہ سے کہا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : «أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم» ” تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں ، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں پریشان کریں گے “ ( النساء : ۱۰۱ ) ، اور اب تو لوگ امن و امان میں ہیں ( پھر قصر کیوں کر جائز ہو گی ؟ ) عمر رضی الله عنہ نے کہا : جو بات تمہیں کھٹکی وہ مجھے بھی کھٹک چکی ہے ، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” یہ اللہ کی جانب سے تمہارے لیے ایک صدقہ ہے جو اللہ نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ، پس تم اس کے صدقے کو قبول کر لو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3034]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1065)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 1 (686)، سنن ابی داود/ الصلاة 270 (1199)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 1 (1434)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 73 (1065) (تحفة الأشراف: 10659)، و مسند احمد (1/25، 36)، وسنن الدارمی/الصلاة 179 (1546) (صحیح)