جامع الترمذي حدیث نمبر: 3029
Jami at-Tirmidhi 3029
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
5: باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ
باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ بِيَدِهِ وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا، يَقُولُ: يَا رَبِّ هَذَا قَتَلَنِي حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ الْعَرْشِ "، قَالَ: فَذَكَرُوا لِابْنِ عَبَّاسٍ التَّوْبَةَ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93، قَالَ: مَا نُسِخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا بُدِّلَتْ وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنَ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آ جائے گا ، اس کی پیشانی اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہوں گے ، مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا ، کہے گا : اے میرے رب ! اس نے مجھے قتل کیا تھا ، ( یہ کہتا ہوا ) اسے لیے ہوئے عرش کے قریب جا پہنچے گا ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے ابن عباس رضی الله عنہما سے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» ۱؎ تلاوت کی ، اور کہا کہ یہ آیت نہ منسوخ ہوئی ہے اور نہ ہی تبدیل ، تو پھر اس کی توبہ کیوں کر قبول ہو گی ؟ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس حدیث کو بعض راویوں نے عمر بن دینار کے واسطہ سے ابن عباس سے اسی طرح روایت کی ہے اس کو مرفوع نہیں کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3029]
💡 وضاحت:
۱؎: ”اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا“ (النساء: ۹۳)۔
۲؎: کسی مومن کو عمداً اور ناحق قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہو گی یا نہیں؟ اس بابت صحابہ میں اختلاف ہے، ابن عباس رضی الله عنہما کی رائے ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی، ان کی دلیل یہی آیت ہے جوان کے بقول بالکل آخری آیت ہے، جس کو منسوخ کرنے والی کوئی آیت نہیں اتری، مگر جمہور صحابہ و سلف کی رائے ہے کہ قرآن کی دیگر آیات کا مفاد ہے کہ تمام گناہوں سے توبہ ہے، جب مشرک سے توبہ کرنے والی کی توبہ قبول ہو گی تو قاتل عمد کی توبہ کیوں قبول نہیں ہو گی۔ البتہ یہ ہے کہ اللہ مقتول کو راضی کر دیں گے۔
۲؎: کسی مومن کو عمداً اور ناحق قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہو گی یا نہیں؟ اس بابت صحابہ میں اختلاف ہے، ابن عباس رضی الله عنہما کی رائے ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی، ان کی دلیل یہی آیت ہے جوان کے بقول بالکل آخری آیت ہے، جس کو منسوخ کرنے والی کوئی آیت نہیں اتری، مگر جمہور صحابہ و سلف کی رائے ہے کہ قرآن کی دیگر آیات کا مفاد ہے کہ تمام گناہوں سے توبہ ہے، جب مشرک سے توبہ کرنے والی کی توبہ قبول ہو گی تو قاتل عمد کی توبہ کیوں قبول نہیں ہو گی۔ البتہ یہ ہے کہ اللہ مقتول کو راضی کر دیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (3465 / التحقيق الثاني)، التعليق الرغيب (3 / 203)، الصحيحة (2697)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/المحاربة (تعظیم الدم) 2 (4010) (تحفة الأشراف: 6303) (وانظر أیضا: سنن النسائی/المحاربة 2 (400 4- 4009)، و48 (4870)، وسنن ابن ماجہ/الدیات 2 (2621)، و مسند احمد (1/240، 294، 364) (صحیح)