جامع الترمذي حدیث نمبر: 2988
Jami at-Tirmidhi 2988
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
3: باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ
باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلشَّيْطَانِ لَمَّةً بِابْنِ آدَمَ وَلِلْمَلَكِ لَمَّةً، فَأَمَّا لَمَّةُ الشَّيْطَانِ فَإِيعَادٌ بِالشَّرِّ وَتَكْذِيبٌ بِالْحَقِّ، وَأَمَّا لَمَّةُ الْمَلَكِ فَإِيعَادٌ بِالْخَيْرِ وَتَصْدِيقٌ بِالْحَقِّ، فَمَنْ وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَعْلَمْ أَنَّهُ مِنَ اللَّهِ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ الْأُخْرَى فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، ثُمَّ قَرَأَ الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ سورة البقرة آية 268 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ حَدِيثُ أَبِي الْأَحْوَصِ لَا نَعْلَمُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی پر شیطان کا اثر ( وسوسہ ) ہوتا ہے اور فرشتے کا بھی اثر ( الہام ) ہوتا ہے ۔ شیطان کا اثر یہ ہے کہ انسان سے برائی کا وعدہ کرتا ہے ، اور حق کو جھٹلاتا ہے ۔ اور فرشتے کا اثر یہ ہے کہ وہ خیر کا وعدہ کرتا ہے ، اور حق کی تصدیق کرتا ہے ۔ تو جو شخص یہ پائے ۱؎ اس پر اللہ کا شکر ادا کرے ۔ اور جو دوسرا اثر پائے یعنی شیطان کا تو شیطان سے اللہ کی پناہ حاصل کرے ۔ پھر آپ نے آیت «الشيطان يعدكم الفقر ويأمركم بالفحشاء» ۲؎ پڑھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوالاحوص کی یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف ابوالاحوص کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2988]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے دل میں نیکی بھلائی کے جذبات جاگیں تو سمجھے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہیں۔
۲؎: ”شیطان تمہیں فقیری سے ڈراتا ہے اور بےحیائی کا حکم دیتا ہے“ (البقرہ: ۲۶۸)۔
۲؎: ”شیطان تمہیں فقیری سے ڈراتا ہے اور بےحیائی کا حکم دیتا ہے“ (البقرہ: ۲۶۸)۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (74) // ضعيف الجامع الصغير (1963) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2988) إسناده ضعيف ¤ عطاء اختلط: (تقدم: 184) والراوي عنه سمع منه بعد اختلاطه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 9550) (صحیح) (صحیح موارد الظمآن 38، و 40)