جامع الترمذي حدیث نمبر: 2982
Jami at-Tirmidhi 2982
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
3: باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ
باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: ح وَحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ، قَالَ: أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا، فَقَالَتْ: " إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238 فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا، فَأَمْلَتْ عَلَيَّ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ، وَقَالَتْ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَفِي الْبَابِ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے غلام ابو یونس کہتے ہیں کہ مجھے عائشہ رضی الله عنہا نے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھ کر تیار کر دوں ۔ اور ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تم آیت : «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى» ۱؎ پر پہنچو تو مجھے خبر دو ، چنانچہ جب میں اس آیت پر پہنچا اور میں نے انہیں خبر دی ، تو انہوں نے مجھے بول کر لکھایا «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» ۱؎ ” نمازوں پر مداومت کرو اور درمیانی نماز کا خاص خیال کرو ، اور نماز عصر کا بھی خاص دھیان رکھو اور اللہ کے آگے خضوع و خشوع سے کھڑے ہوا کرو “ ۔ اور انہوں نے کہا کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں حفصہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2982]
💡 وضاحت:
۱؎: نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لیے با ادب کھڑے رہا کرو (البقرہ: ۲۳۸)
۲؎: یہ قراءت شاذ ہے اس لیے اس کا اعتبار نہیں ہو گا، یا یہاں ”واو“ عطفِ مغایرت کے لیے نہیں ہے بلکہ عطفِ ”تفسیری“ ہے تب اگلی حدیث کے مطابق ہو جائے گا کہ «الصلاة الوسطى» سے مراد عصر کی نماز ہے۔
۲؎: یہ قراءت شاذ ہے اس لیے اس کا اعتبار نہیں ہو گا، یا یہاں ”واو“ عطفِ مغایرت کے لیے نہیں ہے بلکہ عطفِ ”تفسیری“ ہے تب اگلی حدیث کے مطابق ہو جائے گا کہ «الصلاة الوسطى» سے مراد عصر کی نماز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (437)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 36 (629)، سنن ابی داود/ الصلاة 5 (410)، سنن النسائی/الصلاة 14 (473) (تحفة الأشراف: 17809)، و مسند احمد (6/73) (صحیح)