جامع الترمذي حدیث نمبر: 2969
Jami at-Tirmidhi 2969
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ يُسَيِّعٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ:" وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ سورة غافر آية 60"، قَالَ:" الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ"، وَقَرَأَ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِلَى قَوْلِهِ: دَاخِرِينَ سورة غافر آية 60"، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت : وقال ربكم ادعوني أستجب لكم ” اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا ، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے اعراض کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے “ ( غافر : ۶۰ ) ، کی تفسیر میں فرمایا کہ دعا ہی عبادت ہے ۔ پھر آپ نے سورۃ مومن کی آیت وقال ربكم ادعوني أستجب لكم سے داخرين ۱؎ تک پڑھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسے منصور نے روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2969]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3828)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الصلاة 358 (1479)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 1 (3828) (تحفة الأشراف: 11643)، و مسند احمد (4/271، 276)، ویأتي برقم 3247) (صحیح)