جامع الترمذي حدیث نمبر: 2964
Jami at-Tirmidhi 2964
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
3: باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ
باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَأَبُو عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لَمَّا وُجِّهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكَعْبَةِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تو لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے ، اور وہ گزر گئے تو ( اسی موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ” اللہ تعالیٰ تمہارا ایمان ضائع نہ کرے گا “ ( البقرہ : ۱۴۳ ) ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2964]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی گئی نمازوں کو ضائع نہیں کرے گا کیونکہ اس وقت یہی حکم الٰہی تھا، اس آیت میں «ایمان» سے مراد «صلاۃ» ہے نہ کہ بعض بزعم خود مفسر قرآن بننے والے نام نہاد مفسرین کا یہ کہنا کہ یہاں «ایمان» ہی مراد ہے، یہ صحیح حدیث کا صریح انکار ہے، «عفا اللہ عنہ» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ السنة 16 (4680) (تحفة الأشراف: 6108) (صحیح) (سند میں سماک کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے، لیکن صحیح بخاری کی براء رضی الله عنہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)