جامع الترمذي حدیث نمبر: 2918
Jami at-Tirmidhi 2918
کتاب #46: کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
21: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الْمُبَارَكِ، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَقَدْ خُولِفَ وَكِيعٌ فِي رِوَايَتِهِ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ أَبُو فَرْوَةَ: يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ لَيْسَ بِحَدِيثِهِ بَأْسٌ إِلَّا رِوَايَةَ ابْنِهِ مُحَمَّدٍ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَرْوِي عَنْهُ مَنَاكِيرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَبِيهِ هَذَا الْحَدِيثَ فَزَادَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ صُهَيْبٍ، وَلَا يُتَابَعُ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَلَى رِوَايَتِهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَأَبُو الْمُبَارَكِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ.
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قرآن کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال جانا وہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ، وکیع کی روایت میں وکیع سے اختلاف کیا گیا ہے ، ¤ ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابوفروہ کہتے ہیں : یزید بن سنان رہاوی کی روایت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ سوائے اس روایت کے جسے ان کے بیٹے محمد ان سے روایت کرتے ہیں ، اس لیے کہ وہ ان سے مناکیر روایت کرتے ہیں ، ¤ ۳- محمد بن یزید بن سنان نے اپنے باپ سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے اور اس کی سند میں اتنا اضافہ کیا ہے : «عن مجاهد عن سعيد بن المسيب عن صهيب» محمد بن یزید کی روایت کی کسی نے متابعت نہیں کی ، وہ ضعیف ہیں ، اور ابوالمبارک ایک مجہول شخص ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2918]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (2203 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (4975) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2918) إسناده ضعيف ¤ يزيد بن سنان: ضعيف (تقدم: 1077) وشيخه أبو المبارك مجهول (تق: 8338)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4972) (ضعیف) (سند میں ابوالمبارک مجہول راوی ہے)