📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل (كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب:۔۔۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 2916 Jami at-Tirmidhi 2916
کتاب #46: کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
19: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْن حَنْطَبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ أُجُورُ أُمَّتِي حَتَّى الْقَذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوتِيهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ: وَذَاكَرْتُ بِهِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، فَلَمْ يَعْرِفْهُ وَاسْتَغْرَبَهُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَا أَعْرِفُ لِلْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ سَمَاعًا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَوْلَهُ: حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: لَا نَعْرِفُ لِلْمُطَّلِبِ سَمَاعًا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَأَنْكَرَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ أَنْ يَكُونَ الْمُطَّلِبِ سَمِعَ مِنْ أَنَسٍ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کے نیک اعمال کے اجر و ثواب میرے سامنے پیش کیے گئے یہاں تک کہ اس تنکے کا ثواب بھی پیش کیا گیا جسے آدمی مسجد سے نکال کر پھینک دیتا ہے ۔ اور مجھ پر میری امت کے گناہ ( بھی ) پیش کیے گئے تو میں نے کوئی گناہ اس سے بڑھ کر نہیں دیکھا کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورۃ یا کوئی آیت یاد ہو اور اس نے اسے بھلا دیا ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۳- میں نے اس حدیث کا تذکرہ محمد بن اسماعیل بخاری سے کیا تو اس کو وہ پہچان نہ سکے اور انہوں نے اس حدیث کو غریب قرار دیا ، ¤ ۴- محمد بن اسماعیل بخاری نے یہ بھی کہا کہ میں نہیں جانتا کہ مطلب بن عبداللہ کی کسی صحابی رسول سے سماع ثابت ہے ، سوائے مطلب کے اس قول کے کہ مجھ سے اس شخص نے روایت کی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضرین میں موجود تھا ، ¤ ۵- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن ( دارمی ) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہم مطلب کا سماع کسی صحابی رسول سے نہیں جانتے ، ¤ ۶- عبداللہ ( دارمی یہ بھی ) کہتے ہیں : علی بن مدینی اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ مطلب نے انس سے سنا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2916]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (720)، الروض النضير (72)، ضعيف أبي داود (71) // عندنا برقم (88 / 461)، ضعيف الجامع الصغير (3700) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2916) إسناده ضعيف / د 461
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة 16 (461) (تحفة الأشراف: 1592) (ضعیف) (سند میں مطلب اور ابن جریج دونوں مدلس راوی ہیں اور عنعنہ سے روایت ہے، نیز دونوں (مطلب اور انس) کے درمیان سند میں انقطاع بھی ہے، ملاحظہ ہو ضعیف أبی داود 1/164)
جامع الترمذي • حدیث #2916
2915 2915 2916 2917 2918
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ