جامع الترمذي حدیث نمبر: 2829
Jami at-Tirmidhi 2829
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
61: باب مَا جَاءَ فِي فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي
باب: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں“ کہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَا سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ: قَالَ عَلِيٌّ: " مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، وَقَالَ لَهُ: ارْمِ أَيُّهَا الْغُلَامُ الْحَزَوَّرُ " وَفِي الْبَابِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ.
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والد اور اپنی ماں کو سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے سوا کسی کے لیے جمع نہیں کیا ۔ جنگ احد میں آپ نے ان سے کہا : ” تیر چلاؤ ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں “ ، اور آپ نے ان سے یہ بھی کہا : ” اے بہادر قوی جوان ! تیر چلاتے جاؤ “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث علی سے متعدد سندوں سے روایت کی گئی ہے ، ¤ ۳- اس حدیث کو متعدد لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے ، یحییٰ نے سعید بن مسیب سے ، سعید بن مسیب نے سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے ۔ انہوں نے کہا احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے والدین کو یکجا کر دیا ۔ آپ نے فرمایا : ” تیر چلائے جاؤ ، تم پر ہمارے ماں باپ قربان ہوں “ ، ¤ ۴- اس باب میں زبیر اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2829]
قال الشيخ الألباني:
منكر بذكر الغلام الحزور // سيأتي (783 / 4019) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2829) إسناده ضعيف / وسيأتي: 3753/2 ¤ قوله: ”ارم أيها الغلام الحزور“:ضعيف، ابن عيينة عنعن (تقدم:867)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، اور ان کی روایت میں ”الغلام الحزور“ کا لفظ صحیح نہیں ہے، بقیہ حدیث صحیح کے متابعات و شواہد صحیحین میں موجود ہیں)