جامع الترمذي حدیث نمبر: 2828
Jami at-Tirmidhi 2828
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
61: باب مَا جَاءَ فِي فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي
باب: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں“ کہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ".
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سعد بن ابی وقاص کے سوا کسی کے لیے اپنے ماں باپ کو جمع کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2828]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی «فداک ابی امی» ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں“ ایسا سعد بن ابی وقاص کے سوا کسی کے لیے کہتے ہوئے نہیں سنا، سعد کے لیے استعمال سے ثابت ہوا کہ اور کسی کے لیے بھی یہ جملہ کہا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (130)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 80 (2905)، والمغازي 18 (4058، 4059)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 51 (2411)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 77 (190-194)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (129)، وانظر رقم 2830 (تحفة الأشراف: 10116) (صحیح)