جامع الترمذي حدیث نمبر: 2742
Jami at-Tirmidhi 2742
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
4: باب مَا جَاءَ فِي إِيجَابِ التَّشْمِيتِ بِحَمْدِ الْعَاطِسِ
باب: چھینکنے والے کے «الحمد للہ» کہنے پر «یرحمک اللہ» کہہ کر دعا کرنا واجب ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ عَطَسَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا، وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ "، فَقَالَ الَّذِي لَمْ يُشَمِّتْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، شَمَّتَّ هَذَا وَلَمْ تُشَمِّتْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَإِنَّكَ لَمْ تَحْمَدِ اللَّهَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی ، آپ نے ایک کی چھینک پر «يرحمك الله» کہہ کر دعا دی اور دوسرے کی چھینک کا آپ نے جواب نہیں دیا ، تو جس کی چھینک کا آپ نے جواب نہ دیا تھا اس نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ نے اس کی چھینک پر «یرحمک اللہ» کہہ کر دعا دی اور میری چھینک پر آپ نے مجھے یہ دعا نہیں دی ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( چھینک آئی تو ) اس نے اللہ کی حمد بیان کی اور ( تجھے چھینک آئی تو ) تم نے اس کی حمد نہ کی ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2742]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ چھینک آنے پر جو سنت کے مطابق «الحمدللہ» کہے وہی دعائے خیر کا مستحق ہے «الحمداللہ» نہ کہنے کی صورت میں جواب دینے کی ضرورت نہیں، یہ اور بات ہے کہ مسئلہ نہ معلوم ہونے کی صورت میں چھینکنے والے کو سمجھا دینا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأدب 123 (6221)، صحیح مسلم/الزہد 9 (2991)، سنن ابی داود/ الأدب 102 (5039)، سنن ابن ماجہ/الأدب 20 (1713) (تحفة الأشراف: 872)، وسنن الدارمی/الاستئذان 31 (2702) (صحیح)