جامع الترمذي حدیث نمبر: 2701
Jami at-Tirmidhi 2701
کتاب #43: کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام
12: باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ
باب: ذمیوں سے سلام کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَهْطًا مِنَ الْيَهُودِ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ " , قَالَتْ عَائِشَةُ: أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: " قَدْ قُلْتُ: عَلَيْكُمْ " , وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ کچھ یہودیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : «السّام عليك» ” تم پر موت و ہلاکت آئے “ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا : «عليكم» ۱؎ ، عائشہ نے ( اس پر دو لفظ بڑھا کر ) کہا «بل عليكم السام واللعنة» ” بلکہ تم پر ہلاکت اور لعنت ہو “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں رفق ، نرم روی اور ملائمیت کو پسند کرتا ہے “ ، عائشہ رضی الله عنہا نے کہا : کیا آپ نے سنا نہیں ؟ انہوں نے کیا کہا ہے ؟ ۔ آپ نے فرمایا : ” تبھی تو میں نے «عليكم» کہا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابو بصرہ غفاری ، ابن عمر ، انس اور ابوعبدالرحمٰن جہنی سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2701]
💡 وضاحت:
۱؎: گویا آپ نے «عليكم» کہہ کر یہود کی بد دعا خود انہیں پر لوٹا دی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الروض النضير (764)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الستتابة المرتدین 4 (6927)، صحیح مسلم/السلام 4 (2165) (تحفة الأشراف: 16437)، و مسند احمد (6/199) (صحیح)