جامع الترمذي حدیث نمبر: 2659
Jami at-Tirmidhi 2659
کتاب #42: کتاب: علم اور فہم دین
8: باب مَا جَاءَ فِي تَعْظِيمِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ کی نسبت کی تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لے “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2659]
💡 وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا گناہ عظیم ہے، اسی لیے ضعیف اور موضوع روایات کا علم ہو جانے کے بعد انہیں بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیئے، یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت آپ پر جھوٹ باندھتے ہوئے کی جائے یا آپ کے لیے کی جائے دونوں صورتیں گناہ عظیم کا باعث ہیں، اس سے ان لوگوں کے باطل افکار کی تردید ہو جاتی ہے جو عبادت کی ترغیب کے لیے فضائل کے سلسلہ میں وضع احادیث کے جواز کے قائل ہیں، اللہ رب العالمین ایسے فتنے سے ہمیں محفوظ رکھے، آمین۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح متواتر، ابن ماجة (30)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 4 (30)، وانظر أیضا ماتقدم برقم 2257 (تحفة الأشراف: 9212)، و مسند احمد (1/389، 401، 402، 405، 436، 453) (صحیح متواتر)