جامع الترمذي حدیث نمبر: 2658
Jami at-Tirmidhi 2658
کتاب #42: کتاب: علم اور فہم دین
7: باب مَا جَاءَ فِي الْحَثِّ عَلَى تَبْلِيغِ السَّمَاعِ
باب: دوسرے تک دین کی بات پہنچانے پر ابھارنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا وَحَفِظَهَا وَبَلَّغَهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةُ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ، فَإِنَّ الدَّعْوَةَ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے ، اسے محفوظ رکھے اور دوسروں تک پہنچائے ، کیونکہ بہت سے علم کی سمجھ رکھنے والے علم کو اس تک پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان کا دل دھوکہ نہیں کھا سکتا ، ( ۱ ) عمل خالص اللہ کے لیے ( ۲ ) مسلمانوں کے ائمہ کے ساتھ خیر خواہی ( ۳ ) اور مسلمانوں کی جماعت سے جڑ کر رہنا ، کیونکہ دعوت ان کا چاروں طرف سے احاطہٰ کرتی ہے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2658]
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)