جامع الترمذي حدیث نمبر: 262
Jami at-Tirmidhi 262
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
82: باب مَا جَاءَ فِي التَّسْبِيحِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
باب: رکوع اور سجدے میں تسبیح کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَال: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ " وَفِي سُجُودِهِ " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى " وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ وَسَأَلَ، وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ وَتَعَوَّذَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،
حذیفہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ اپنے رکوع میں «سبحان ربي العظيم» اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» پڑھ رہے تھے ۔ اور جب بھی رحمت کی کسی آیت پر پہنچتے تو ٹھہرتے اور سوال کرتے اور جب عذاب کی کسی آیت پر آتے تو ٹھہرتے اور ( عذاب سے ) پناہ مانگتے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ © یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 262]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ نفل نمازوں کے ساتھ خاص ہے، شیخ عبدالحق ”لمعات التنقيح شرح مشكاة المصابيح“ میں فرماتے ہیں «االظاهر أنه كان في الصلاة محمول عندنا على النوافل» یعنی ظاہر یہی ہے کہ آپ نماز میں تھے اور یہ ہمارے نزدیک نوافل پر محمول ہو گا (اگلی حدیث میں اس کے تہجد میں ہونے کی صراحت آ گئی ہے)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (881)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 27 (772)، سنن ابی داود/ الصلاة 151 (871)، سنن النسائی/الافتتاح 77 (1009)، والتطبیق 9 (1047)، و74 (1134)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 20 (897)، و179 (1351)، (تحفة الأشراف: 3351)، مسند احمد (5/382، 384، 394)، سنن الدارمی/الصلاة 69 (1345) (صحیح)