جامع الترمذي حدیث نمبر: 2537
Jami at-Tirmidhi 2537
کتاب #39: کتاب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ
7: باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
باب: جنتیوں کے اوصاف کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُورَتُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَا يَبْصُقُونَ فِيهَا وَلَا يَمْتَخِطُونَ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ، آنِيَتُهُمْ فِيهَا الذَّهَبُ، وَأَمْشَاطُهُمْ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَمَجَامِرُهُمْ مِنَ الْأُلُوَّةِ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ، وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ يُرَى مُخُّ سُوقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ مِنَ الْحُسْنِ، لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ وَلَا تَبَاغُضَ، قُلُوبُهُمْ قَلْبُ رَجُلٍ وَاحِدٍ يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَالْأُلُوَّةُ هُوَ الْعُودُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا ان کی شکل چودہویں رات کے چاند کی طرح ہو گی ، نہ وہ اس میں تھوکیں گے نہ ناک صاف کریں گے اور نہ پاخانہ کریں گے ، جنت میں ان کے برتن سونے کے ہوں گے ، ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی ، ان کی انگیٹھیاں عود کی ہوں گی اور ان کا پسینہ مشک کا ہو گا ۔ ان میں سے ہر آدمی کے لیے ( کم از کم ) دو دو بیویاں ہوں گی ، خوبصورتی کے سبب ان کی پنڈلی کا گودا گوشت کے اندر سے نظر آئے گا ۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہ ہو گا ، اور نہ ان کے درمیان کوئی عداوت و دشمنی ہو گی ۔ ان کے دل ایک آدمی کے دل کے مانند ہوں گے ، وہ صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کریں گے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث صحیح ہے ، ¤ ۲- «الألوة» عود کو کہتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2537]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق 8 (3245، 246، 3254) و أحادیث الأنبیاء 1 (3327)، صحیح مسلم/الجنة 6 و7 (2834/14، 17)، سنن ابن ماجہ/الزہد 39 (4333) (تحفة الأشراف: 14678) (صحیح)