جامع الترمذي حدیث نمبر: 2509
Jami at-Tirmidhi 2509
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
56: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ؟ " قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " صَلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ فَإِنَّ فَسَادَ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَيُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعَرَ وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ ".
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتا دوں جو درجہ میں صلاۃ ، صوم اور صدقہ سے بھی افضل ہے ، صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں ؟ ضرور بتائیے “ ، آپ نے فرمایا : ” وہ آپس میں میل جول کرا دینا ہے ۱؎ اس لیے کہ آپس کی پھوٹ دین کو مونڈنے والی ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث صحیح ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” یہی چیز مونڈنے والی ہے ۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ سر کا بال مونڈنے والی ہے بلکہ دین کو مونڈ نے والی ہے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2509]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ آپس میں میل جول کرا دینا یہ نفلی عبادت سے افضل ہے، کیونکہ یہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے اور مسلمانوں کے درمیان افتراق و انتشار کے نہ ہونے کا ذریعہ ہے، جب کہ آپسی رنجش و عداوت دینی بگاڑ کی جڑ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح غاية المرام (414)، المشكاة (5038 / التحقيق الثانى)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2509) إسناده ضعيف / د 4919
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 58 (4919) (تحفة الأشراف: 10981)، و مسند احمد (6/444) (صحیح)