جامع الترمذي حدیث نمبر: 2508
Jami at-Tirmidhi 2508
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ هُوَ مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَسُوءَ ذَاتِ الْبَيْنِ فَإِنَّهَا الْحَالِقَةُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ وَسُوءَ ذَاتِ الْبَيْنِ: إِنَّمَا يَعْنِي الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ، وَقَوْلُهُ: الْحَالِقَةُ يَقُولُ: إِنَّهَا تَحْلِقُ الدِّينَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آپسی پھوٹ اور بغض و عداوت کی برائی سے اجتناب کرو کیونکہ یہ ( دین کو ) مونڈنے والی ہے ۱؎ ، آپسی پھوٹ کی برائی سے مراد آپس کی عداوت اور بغض و حسد ہے اور «الحالقة» مونڈنے والی سے مراد دین کو مونڈنے والی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2508]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپسی بغض و عداوت اور انتشار و افتراق سے اجتناب کرنا چاہیئے، کیونکہ اس سے نہ یہ کہ صرف دنیا تباہ ہوتی ہے بلکہ دین بھی ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (5041 / التحقيق الثانى)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12998) (حسن)