📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع (كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب:۔۔۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 2505 Jami at-Tirmidhi 2505
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
53: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَيَّرَ أَخَاهُ بِذَنْبٍ لَمْ يَمُتْ حَتَّى يَعْمَلَهُ " , قَالَ أَحْمَدُ: " مِنْ ذَنْبٍ قَدْ تَابَ مِنْهُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، وَخَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، وَرُوِيَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ أَنَّهُ أَدْرَكَ سَبْعِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَاتَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَخَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، رَوَى عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ عَنْ مُعَاذٍ غَيْرَ حَدِيثٍ.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اپنے کسی دینی بھائی کو کسی گناہ پر عار دلایا تو اس کی موت نہیں ہو گی یہاں تک کہ اس سے وہ گناہ صادر ہو جائے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- اس کی سند متصل نہیں ہے ، اور خالد بن معدان کی ملاقات معاذ بن جبل سے ثابت نہیں ہے ، خالد بن معدان سے مروی ہے کہ انہوں نے ستر صحابہ سے ملاقات کی ہے ، اور معاذ بن جبل کی وفات عمر بن خطاب کی خلافت میں ہوئی ، اور خالد بن معدان نے معاذ کے کئی شاگردوں کے واسطہ سے معاذ سے کئی حدیثیں روایت کی ہے ، ¤ ۳- احمد بن منیع نے کہا : اس سے وہ گناہ مراد ہے جس سے وہ شخص توبہ کر چکا ہو ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2505]
قال الشيخ الألباني: موضوع، الضعيفة (178) // ضعيف الجامع الصغير (5710) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2505) إسناده ضعيف ¤ محمد بن الحسن الهمداني: ضعيف (تق: 5820) والسند منقطع
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11310) (موضوع) (خالد بن معدان کا سماع معاذ رضی الله عنہ سے نہیں ہے، اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ محمد بن حسن کذاب راوی ہے، اسی نے یہ حدیث گھڑی ہوگی مگر سند متصل نہ کر سکا)
جامع الترمذي • حدیث #2505
2503 2504 2505 2506 2507
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ