جامع الترمذي حدیث نمبر: 2504
Jami at-Tirmidhi 2504
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
52: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " , هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا گیا کہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ افضل کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث ابوموسیٰ کی روایت سے اس سند سے صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2504]
💡 وضاحت:
۱؎: زبان سے محفوظ رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی زبان سے کسی مسلمان کی طعن و تشنیع، غیبت چغل خوری، بہتان تراشی نہ کرے، نہ ہی اسے گالی گلوج دے، اور ہاتھ سے محفوظ رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے نہ کسی کو مارے، نہ قتل کرے، نہ ناحق کسی کی کوئی چیز توڑے، اور نہ ہی باطل افکار پر مشتمل کوئی تحریر لکھے جس سے کہ لوگ گمراہ ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 5 (11)، صحیح مسلم/الإیمان 14 (42)، سنن النسائی/الإیمان 11 (5002) (تحفة الأشراف: 9041) (صحیح)