جامع الترمذي حدیث نمبر: 2501
Jami at-Tirmidhi 2501
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
50: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَمَتَ نَجَا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو خاموش رہا اس نے نجات پائی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- اسے ہم صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2501]
💡 وضاحت:
۱؎: خاموشی آدمی کے لیے سکون اور آخرت کے لیے نجات کا ذریعہ ہے، کیونکہ لوگوں سے زیادہ میل جول اور ان سے گپ شپ کرنا یہ دین کے لیے باعث خطرہ ہے، اس لیے اپنے فاضل اوقات کو ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن میں صرف کرنا زیادہ بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (535)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8861)، وانظر: مسند احمد (2/159، 177)، وسنن الدارمی/الرقاق 5 (3755) (صحیح)