جامع الترمذي حدیث نمبر: 2497
Jami at-Tirmidhi 2497
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
49: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِحَدِيثَيْنِ: أَحَدِهِمَا عَنْ نَفْسِهِ، وَالْآخَرِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَأَنَّهُ فِي أَصْلِ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَذُبَابٍ وَقَعَ عَلَى أَنْفِهِ " , قَالَ بِهِ هَكَذَا فَطَارَ.
حارث بن سوید کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے دو حدیثیں بیان کیں ، ایک اپنی طرف سے اور دوسری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ( یعنی ایک موقوف اور دوسری مرفوع ) عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا : مومن اپنے گناہ کو ایسا دیکھتا ہے گویا وہ پہاڑ کی جڑ میں ہے ۔ ڈرتا ہے کہ اس پر وہ گر نہ پڑے ۱؎ ، اور فاجر اپنے گناہ کو ایک مکھی کے مانند دیکھتا ہے جو اس کی ناک پر بیٹھی ہوئی ہے ، اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ اڑ گئی ۲؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2497]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اسے عذاب الٰہی کا پہاڑ اپنے سامنے نظر آتا ہے۔
۲؎: یعنی ایک فاجر شخص اپنے گناہ کے سلسلہ میں بےخوف ہوتا ہے اور اس کی نگاہ میں اس گناہ کی کوئی اہمیت نہیں، نہ ہی اسے اس پر کوئی افسوس ہوتا ہے بلکہ اس کی حیثیت اس مکھی کی طرح ہے جو ناک پر بیٹھی ہو اور ہاتھ کے اشارہ سے بھاگ جائے، اسی طرح اس کے عقل و فہم میں اس گناہ کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا یہ ابن مسعود کی موقوف روایت ہے، (مرفوع کا ذکر آگے ہے)۔
۲؎: یعنی ایک فاجر شخص اپنے گناہ کے سلسلہ میں بےخوف ہوتا ہے اور اس کی نگاہ میں اس گناہ کی کوئی اہمیت نہیں، نہ ہی اسے اس پر کوئی افسوس ہوتا ہے بلکہ اس کی حیثیت اس مکھی کی طرح ہے جو ناک پر بیٹھی ہو اور ہاتھ کے اشارہ سے بھاگ جائے، اسی طرح اس کے عقل و فہم میں اس گناہ کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا یہ ابن مسعود کی موقوف روایت ہے، (مرفوع کا ذکر آگے ہے)۔
قال الشيخ الألباني:
**
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الدعوات 4 (6308)، صحیح مسلم/التوبة 1 (2744) (تحفة الأشراف: 9190) (صحیح)