جامع الترمذي حدیث نمبر: 2448
Jami at-Tirmidhi 2448
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
17: باب مِنْهُ
باب: دین سے دوری کی برائی کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ الْخَثْعَمِيُّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ الْخَثْعَمِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَخَيَّلَ، وَاخْتَالَ وَنَسِيَ الْكَبِيرَ الْمُتَعَالِ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَجَبَّرَ وَاعْتَدَى وَنَسِيَ الْجَبَّارَ الْأَعْلَى، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ سَهَا وَلَهَا وَنَسِيَ الْمَقَابِرَ وَالْبِلَى، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ عَتَا وَطَغَى وَنَسِيَ الْمُبْتَدَا وَالْمُنْتَهَى، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدُّنْيَا بِالدِّينِ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدِّينَ بِالشُّبُهَاتِ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ طَمَعٌ يَقُودُهُ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ هَوًى يُضِلُّهُ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ رَغَبٌ يُذِلُّهُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ.
اسماء بنت عمیس خثعمیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” برا ہے وہ بندہ جو تکبر کرے اور اترائے اور اللہ بزرگ و برتر کو بھول جائے ، اور برا ہے وہ بندہ جو مظلوموں پر قہر ڈھائے اور ظلم و زیادتی کرے اور اللہ جبار برتر کو بھول جائے ، اور برا ہے وہ بندہ جو لہو و لعب میں مشغول ہو اور قبروں اور ہڈیوں کے سڑ گل جانے کو بھول جائے ، اور برا ہے وہ بندہ جو حد سے آگے بڑھ جائے اور سرکشی کا راستہ اپنائے اور اپنی پیدائش اور موت کو بھول جائے ، اور برا ہے وہ بندہ جو دین کے بدلے دنیا کو طلب کرے ، اور برا ہے وہ بندہ جو اپنے دین کو شبہات سے ملائے ، اور برا ہے وہ بندہ جسے لالچ اپنی طرف کھینچ لے ، اور برا ہے وہ بندہ جسے اس کا ہوائے نفسانی گمراہ کر دے اور برا ہے وہ بندہ جسے حرص ذلیل و رسوا کر دے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور اس کی سند قوی نہیں ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2448]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (5115 / التحقيق الثاني)، الضعيفة (2026)، الظلال (9 و 10) // ضعيف الجامع الصغير (2350) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2448) إسناده ضعيف ¤ زيد الخثعمي: مجهول وتلميذه هاشم بن سعيد: ضعيف (تق: 2147،7254)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15755) (ضعیف) (سند میں ہاشم بن سعید الکوفی ضعیف راوی ہیں)