جامع الترمذي حدیث نمبر: 2447
Jami at-Tirmidhi 2447
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
17: باب مِنْهُ
باب: دین سے دوری کی برائی کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا كُنَّا عَلَيْهِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: أَيْنَ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: " أَوَلَمْ تَصْنَعُوا فِي صَلَاتِكُمْ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں وہ چیزیں نہیں دیکھتا جن پر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عمل کرتے تھے ، راوی حدیث ابوعمران جونی نے کہا : کیا آپ نماز نہیں دیکھتے ؟ انس رضی الله عنہ نے کہا : کیا تم لوگوں نے نماز میں وہ سب نہیں کیا جو تم جانتے ہو ؟ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث ابوعمران جونی کی روایت سے غریب حسن ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث انس کے واسطے سے اس کے علاوہ اور کئی سندوں سے مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2447]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نماز کی پابندی اور اس کے اوقات میں اسے ادا کرنا اس سلسلہ میں تم لوگوں نے سستی اور کاہلی نہیں برتی؟۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المواقیت 7 (529، 530) (تحفة الأشراف: 1074) (صحیح)