جامع الترمذي حدیث نمبر: 2430
Jami at-Tirmidhi 2430
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
8: باب مَا جَاءَ فِي شَأْنِ الصُّورِ
باب: صور کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَسْلَمَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا الصُّورُ؟ قَالَ: " قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر عرض کیا : «صور» کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک سنکھ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- کئی لوگوں نے سلیمان تیمی سے اس حدیث کی روایت کی ہے ، اسے ہم صرف سلیمان تیمی کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2430]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1080)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ السنة 24 (4742) (تحفة الأشراف: 8608)، و مسند احمد (2/162، 192)، وسنن الدارمی/الرقاق 79 (2840)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر سورة القیامة (3339) (صحیح)