جامع الترمذي حدیث نمبر: 2410
Jami at-Tirmidhi 2410
کتاب #37: کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
58: باب مَا جَاءَ فِي حِفْظِ اللِّسَانِ
باب: زبان کی حفاظت کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ، قَالَ: " قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ.
سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھ سے ایسی بات بیان فرمائیں جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں ، آپ نے فرمایا : ” کہو : میرا رب ( معبود حقیقی ) اللہ ہے پھر اسی عہد پر قائم رہو “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کو مجھ سے کس چیز کا زیادہ خوف ہے ؟ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا : ” اسی کا زیادہ خوف ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث سفیان بن عبداللہ ثقفی سے کئی سندوں سے مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2410]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3972)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 14 (38)، سنن ابن ماجہ/الفتن 12 (3972) (تحفة الأشراف: 4478)، و مسند احمد (3/413) (صحیح)