جامع الترمذي حدیث نمبر: 2406
Jami at-Tirmidhi 2406
کتاب #37: کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
58: باب مَا جَاءَ فِي حِفْظِ اللِّسَانِ
باب: زبان کی حفاظت کا بیان۔
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا النَّجَاةُ؟ قَالَ: " أَمْسِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! نجات کی کیا صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اپنی زبان کو قابو میں رکھو ، اپنے گھر کی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2406]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں زبان کی حفاظت کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے، کیونکہ اسے کنٹرول میں نہ رکھنے کی صورت میں اس سے بکثرت گناہ صادر ہوتے ہیں، اس لیے لایعنی اور غیر ضروری باتوں سے پرہیز کرنا چاہیئے اور کوشش یہ ہو کہ ہمیشہ زبان سے خیر ہی نکلے، ایسے لوگوں اور مجالس سے دور رہنا چاہیئے جن سے شر کا خطرہ ہو، بحیثیت انسان غلطیاں ضرور ہوں گی ان کی تلافی کے لیے رب العالمین کے سامنے عاجزی کا اظہار کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (888)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2406) إسناده ضعيف ¤ على بن يزيد و عبيدالله بن زحر: ضعيفان (تقدما: 1282) وللحديث شواهد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9928)، وانظر مسند احمد (4/148)، و (5/259) (صحیح) (یہ سند مشہور ضعیف اسانید میں سے ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، دیکھیے الصحیحة رقم: 890)