📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری (كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: چھپا کر نیک عمل کرنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 2384 Jami at-Tirmidhi 2384
کتاب #37: کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
49: باب عَمَلِ السِّرِّ
باب: چھپا کر نیک عمل کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الرَّجُلُ يَعْمَلُ الْعَمَلَ فَيُسِرُّهُ فَإِذَا اطُّلِعَ عَلَيْهِ أَعْجَبَهُ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَهُ أَجْرَانِ أَجْرُ السِّرِّ وَأَجْرُ الْعَلَانِيَةِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَاهُ الْأَعْمَشُ، وَغَيْرُهُ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَأَصْحَابُ الْأَعْمَشِ لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: إِذَا اطُّلِعَ عَلَيْهِ فَأَعْجَبَهُ فَإِنَّمَا مَعْنَاهُ أَنْ يُعْجِبَهُ ثَنَاءُ النَّاسِ عَلَيْهِ بِالْخَيْرِ، لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ فَيُعْجِبُهُ ثَنَاءُ النَّاسِ عَلَيْهِ، لِهَذَا لِمَا يَرْجُو بِثَنَاءِ النَّاسِ عَلَيْهِ فَأَمَّا إِذَا أَعْجَبَهُ لِيَعْلَمَ النَّاسُ مِنْهُ الْخَيْرَ، لِيُكْرَمَ عَلَى ذَلِكَ وَيُعَظَّمَ عَلَيْهِ فَهَذَا رِيَاءٌ " , وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا اطُّلِعَ عَلَيْهِ فَأَعْجَبَهُ رَجَاءَ أَنْ يَعْمَلَ بِعَمَلِهِ فَيَكُونُ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ، فَهَذَا لَهُ مَذْهَبٌ أَيْضًا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آدمی نیک عمل کرتا ہے پھر اسے چھپاتا ہے لیکن جب لوگوں کو اس کی اطلاع ہو جاتی ہے تو وہ اسے پسند کرتا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے لیے دو اجر ہیں ایک نیکی کے چھپانے کا اور دوسرا اس کے ظاہر ہو جانے کا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ ¤ ۲- اعمش وغیرہ نے اس حدیث کو «حبيب بن أبي ثابت عن أبي صالح عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً روایت کیا ہے ، اور اعمش کے شاگردوں نے اس میں «عن أبي هريرة» کا ذکر نہیں کیا ، ¤ ۳- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : اس کے نیک عمل کے ظاہر ہو جانے پر لوگوں کے پسند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی تعریف اور ثناء خیر کو وہ پسند کرتا ہے اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ” تم لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہو “ ، یقیناً اسے لوگوں کی تعریف پسند آتی ہے کیونکہ اسے لوگوں کی تعریف سے آخرت کے خیر کی امید ہوتی ہے ، البتہ اگر کوئی لوگوں کے جان جانے پر اس لیے خوش ہوتا ہے کہ اس کے نیک عمل کو جان کر لوگ اس کی تعظیم و تکریم کریں گے تو یہ ریا و نمود میں داخل ہو جائے گا ، ¤ ۴- اور بعض اہل علم نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ لوگوں کے جان جانے پر وہ اس لیے خوش ہوتا ہے کہ نیک عمل میں لوگ اس کی اقتداء کریں گے اور اسے بھی ان کے اعمال میں اجر ملے گا تو یہ خوشی بھی مناسب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2384]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (4226) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (927) صفحة (347) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2384) إسناده ضعيف / جه 4226 ¤ حبيب عنعن (تقدم: 241)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الزہد 25 (4226) (تحفة الأشراف: 12311) (ضعیف) (سند میں سعید بن سنان حافظہ کے کمزور ہیں، اس لیے مرسل روایت کو مرفوع ومتصل بنا دیا ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الضعیفة رقم: 4344)
جامع الترمذي • حدیث #2384
2382 2383 2384 2385 2386
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ