جامع الترمذي حدیث نمبر: 2383
Jami at-Tirmidhi 2383
کتاب #37: کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
48: باب مَا جَاءَ فِي الرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ
باب: ریا و نمود اور شہرت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنِي الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَيْفٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِي مُعَانٍ الْبَصْرِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحَزَنِ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا جُبُّ الْحَزَنِ، قَالَ: " وَادٍ فِي جَهَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّمُ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ " , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَنْ يَدْخُلُهُ، قَالَ: " الْقُرَّاءُ الْمُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ " , قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «جب الحزن» ( غم کی وادی ) سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو “ ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! «جب الحزن» کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” جہنم کی ایک وادی ہے جس سے جہنم بھی ہر روز سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے “ ، پھر صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس میں کون لوگ داخل ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” ریاکار قراء ( اس میں داخل ہوں گے ) “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2383]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (256) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (52) أتم من هنا وفي نسخة " القراء "، المشكاة (275)، ضعيف الجامع الصغير (2460) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2383) إسناده ضعيف / جه 256 ¤ عمار بن سيف: ضعيف الحديث عابد (تق:4826) وشيخه أبو معان مجهول (تق:8375)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 23 (256) (تحفة الأشراف: 14586) (ضعیف) (سند میں ”ابو معان“ یا ”ابو معاذ“ مجہول راوی ہے، اور ”عمار بن سیف“ ضعیف الحدیث، ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس کا دوسرا طریق بھی ضعیف ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الضعیفة رقم: 5023، و 5152)