جامع الترمذي حدیث نمبر: 237
Jami at-Tirmidhi 237
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
63: باب مَا جَاءَ إِذَا أَمَّ أَحَدُكُمُ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ
باب: جب تم میں سے کوئی امامت کرے تو نماز ہلکی پڑھائے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَاسْمُ أَبِي عَوَانَةَ وَضَّاحٌ، . قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ قُتَيْبَةَ قُلْتُ: أَبُو عَوَانَةَ مَا اسْمُهُ؟ قَالَ وَضَّاحٌ: قُلْتُ ابْنُ مَنْ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي كَانَ عَبْدًا لِامْرَأَةٍ بِالْبَصْرَةِ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ ہلکی اور سب زیادہ مکمل نماز پڑھنے والے تھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ © یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 237]
💡 وضاحت:
۱؎: ”سب سے ہلکی نماز ہوتی تھی“ سے مراد یہ ہے کہ آپ لمبی قرأت نہیں کرتے تھے، اسی طرح لمبی دعاؤں سے بھی بچتے تھے، اور سب سے زیادہ مکمل نماز کا مطلب یہ ہے کہ آپ نماز کے جملہ ارکان و سنن اور مستحبات کو بحسن خوبی اطمینان سے ادا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 37 (469)، سنن النسائی/الإمامة 35 (825)، (تحفة الأشراف: 1432)، مسند احمد (3/170، 173، 179، 231، 234، 276)، سنن الدارمی/الصلاة 46 (1295) (صحیح)