جامع الترمذي حدیث نمبر: 236
Jami at-Tirmidhi 236
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
63: باب مَا جَاءَ إِذَا أَمَّ أَحَدُكُمُ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ
باب: جب تم میں سے کوئی امامت کرے تو نماز ہلکی پڑھائے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَمَّ أَحَدُكُمُ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ الصَّغِيرَ وَالْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَالْمَرِيضَ، فَإِذَا صَلَّى وَحْدَهُ فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ "قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، وَأَنَسٍ، وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَمَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي وَاقِدٍ، وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، وَأَبِي مَسْعُودٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ اخْتَارُوا أَنْ لَا يُطِيلَ الْإِمَامُ الصَّلَاةَ مَخَافَةَ الْمَشَقَّةِ عَلَى الضَّعِيفِ وَالْكَبِيرِ وَالْمَرِيضِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَبُو الزِّنَادِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ، وَالْأَعْرَجُ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْمَدِينِيُّ وَيُكْنَى أَبَا دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرے تو چاہیئے کہ ہلکی نماز پڑھائے ، کیونکہ ان میں چھوٹے ، بڑے ، کمزور اور بیمار سبھی ہوتے ہیں اور جب وہ تنہا نماز پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عدی بن حاتم ، انس ، جابر بن سمرہ ، مالک بن عبداللہ ، ابوواقد ، عثمان ، ابومسعود ، جابر بن عبداللہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- یہی اکثر اہل علم کا قول ہے ، ان لوگوں نے اسی کو پسند کیا کہ امام نماز لمبی نہ پڑھائے تاکہ کمزور ، بوڑھے اور بیمار لوگوں کو پریشانی نہ ہو ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 236]
💡 وضاحت:
۱؎: ہلکی نماز پڑھائے کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ارکان کی ادائیگی میں اطمینان و سکون اور خشوع و خضوع اور اعتدال نہ ہو، تعدیل ارکان فرض ہے، نیز اگلی حدیث سے واضح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نماز پڑھاتے تھے تب بھی کامل نماز پڑھاتے حتیٰ کہ مغرب میں بھی سورۃ الطور یا سورۃ المرسلات پڑھتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (759)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 62 (703)، صحیح مسلم/الصلاة 37 (467)، سنن ابی داود/ الصلاة 127 (794)، سنن النسائی/الإمامة 35 (824)، (تحفة الأشراف: 13884)، مسند احمد (2/256، 271، 317، 393، 486، 502، 537) (صحیح)