جامع الترمذي حدیث نمبر: 2347
Jami at-Tirmidhi 2347
کتاب #37: کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا، قُلْتُ: لَا يَا رَبِّ وَلَكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا، أَوْ قَالَ ثَلَاثًا أَوْ نَحْوَ هَذَا، فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ، وَإِذَا شَبِعْتُ شَكَرْتُكَ وَحَمِدْتُكَ " , قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وفي الباب عن فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَالْقَاسِمُ هَذَا هُوَ: ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَيُكْنَى: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَيُقَالُ أَيْضًا: يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ، وَهُوَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ شَامِيٌّ ثِقَةٌ، وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ , وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ.
اسی سند سے مزید روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے رب نے مجھ پر اس بات کو پیش کیا کہ مکہ کی کنکریلی زمین کو سونا بنا دے لیکن میں نے کہا : نہیں اے میرے رب ! میں تو چاہتا ہوں کہ ایک دن آسودہ رہوں اور ایک دن بھوکا “ ، یا فرمایا : ” تین دن “ ، یا اسی کے مانند کچھ اور فرمایا : ” پس جب میں بھوکا رہوں گا تو تیرے لیے عاجزی اور مسکنت ظاہر کروں گا اور تجھے یاد کروں گا ، اور جب آسودہ رہوں گا تو تیرا شکر ادا کروں گا اور تیری حمد بجا لاؤں گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس باب میں فضالہ بن عبید سے بھی روایت ہے ، اور قاسم یہ قاسم بن عبدالرحمٰن ہیں جن کی کنیت ابوعبدالرحمٰن ہے ، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی کنیت ابوعبدالملک ہے ، یہ عبدالرحمٰن بن خالد بن یزید بن معاویہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، شامی ہیں ، ثقہ ہیں ، ¤ ۳- علی بن یزید حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ، ان کی کنیت ابوعبدالملک ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2347M]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (5189 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1397) //
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (ضعیف)