جامع الترمذي حدیث نمبر: 2292
Jami at-Tirmidhi 2292
کتاب #35: کتاب: خواب کے آداب و احکام
10: باب مَا جَاءَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيزَانَ وَالدَّلْوَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ أَنْفُخَهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا كَاذِبَيْنِ يَخْرُجَانِ مِنْ بَعْدِي، يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا: مُسَيْلِمَةُ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ، وَالْعَنْسِيُّ صَاحِبُ صَنْعَاءَ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن ہیں ، ان کے حال نے مجھے غم میں ڈال دیا ، پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونکوں ، لہٰذا میں نے پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے ، میں نے ان دونوں کنگنوں کی تعبیر ( نبوت کا دعویٰ کرنے والے ) دو جھوٹوں سے کی جو میرے بعد نکلیں گے : ایک کا نام مسیلمہ ہو گا جو یمامہ کا رہنے والا ہو گا اور دوسرے کا نام عنسی ہو گا ، جو صنعاء کا رہنے والا ہو گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2292]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب میں یہ دیکھنا کہ آپ سونے کا دو کنگن پہنے ہوئے ہیں، جب کہ یہ عورتوں کا زیور ہے اس طرف اشارہ تھا کہ دو جھوٹے دعویدار ایسی بات کا دعویٰ کریں گے جس کے وہ حقدار نہ ہوں گے یعنی نبوت کا دعویٰ، اور پھونک مارنے سے ان کا اڑ جانا اس سے اشارہ تھا کہ آپ کے کام کے سامنے ان کی باتوں کا کوئی وزن نہ ہو گا وہ «لاشیٔ» کے مثل ہوں گے اور انہیں ختم کر دیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 25 (3621)، والمغازي 70 (4374، 4375)، و 71 (4379)، والتعبیر 38 (7034)، و 40 (7037)، صحیح مسلم/الرؤیا 4 (2274)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا 10 (3922) (تحفة الأشراف: 13574)، و مسند احمد (2/319، 328، 344) (صحیح)