جامع الترمذي حدیث نمبر: 2287
Jami at-Tirmidhi 2287
کتاب #35: کتاب: خواب کے آداب و احکام
10: باب مَا جَاءَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيزَانَ وَالدَّلْوَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَرَجَحْتَ أَنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ، وَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ، وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ، فَرَجَحَ عُمَرُ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَرَأَيْنَا الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا : ” تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے ؟ “ ایک آدمی نے کہا : میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو اترا ، آپ اور ابوبکر تولے گئے تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے ، ابوبکر اور عمر تولے گئے ، تو ابوبکر بھاری نکلے ، عمر اور عثمان تولے گئے تو عمر بھاری نکلے پھر ترازو اٹھا لیا گیا ، ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2287]
💡 وضاحت:
۱؎: ناگواری کا سبب یہ تھا کہ میزان کے اٹھا لیے جانے کا مفہوم یہ نکلا کہ عمر رضی الله عنہ کے بعد فتنوں کا آغاز ہو جائے گا، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6057 / التحقيق الثانى)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2287) إسناده ضعيف / د 4634
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ السنة 9 (4634) (تحفة الأشراف: 11662)، و مسند احمد (5/44، 50) (صحیح)