📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں (كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: خلافت کا بیان۔
عربی:
اردو:
48: باب مَا جَاءَ فِي الْخِلاَفَةِ
باب: خلافت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَفِينَةُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخِلَافَةُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ مُلْكٌ بَعْدَ ذَلِكَ "، ثُمَّ قَالَ لِي سَفِينَةُ: أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: وَخِلَافَةَ عُمَرَ، وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ، ثُمَّ قَالَ لِي: أَمْسِكْ خِلَافَةَ عَلِيٍّ، قَالَ: فَوَجَدْنَاهَا ثَلَاثِينَ سَنَةً، قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ بَنِي أُمَيَّةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ الْخِلَافَةَ فِيهِمْ، قَالَ: كَذَبُوا بَنُو الزَّرْقَاءِ بَلْ هُمْ مُلُوكٌ مِنْ شَرِّ الْمُلُوكِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، قَالَا: لَمْ يَعْهَدِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخِلَافَةِ شَيْئًا، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ.
سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ ہم سے سفینہ رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی ، پھر اس کے بعد ملوکیت آ جائے گی “ ، پھر مجھ سے سفینہ رضی الله عنہ نے کہا : ابوبکر رضی الله عنہ کی خلافت ، عمر رضی الله عنہ کی خلافت ، عثمان رضی الله عنہ کی خلافت اور علی رضی الله عنہ کی خلافت ، شمار کرو ۱؎ ، راوی حشرج بن نباتہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسے تیس سال پایا ، سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سفینہ رضی الله عنہ سے کہا : بنو امیہ یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت ان میں ہے ؟ کہا : بنو زرقاء جھوٹ اور غلط کہتے ہیں ، بلکہ ان کا شمار تو بدترین بادشاہوں میں ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث سعید بن جمہان سے روایت کی ہے ، ہم اسے صرف سعید بن جمہان ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں عمر اور علی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت کے بارے میں کسی چیز کی وصیت نہیں فرمائی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2226]
💡 وضاحت:
۱؎: مسند احمد میں سفینہ رضی الله عنہ سے ہر خلیفہ کے دور کی تصریح موجود ہے، اس تصریح کے مطابق ابوبکر رضی الله عنہ کی مدت خلافت دو سال، عمر رضی الله عنہ کی دس سال، عثمان رضی الله عنہ کی بارہ سال اور علی رضی الله عنہ کی چھ سال ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (459 و 1534 و 1535)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ السنة 9 (4646، 4647) (تحفة الأشراف: 4480)، و مسند احمد (5/221) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #2226
2224 2225 2226 2227 2228

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2225 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِي...
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے کہا گیا : کاش ! آپ کسی کو خلیف...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ