جامع الترمذي حدیث نمبر: 2225
Jami at-Tirmidhi 2225
کتاب #34: کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: لَوِ اسْتَخْلَفْتَ، قَالَ: " إِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ أَبُو بَكْرٍ، وَإِنْ لَمْ أَسْتَخْلِفْ لَمْ يَسْتَخْلِفْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے کہا گیا : کاش ! آپ کسی کو خلیفہ نامزد کر دیتے ، انہوں نے کہا : اگر میں کسی کو خلیفہ مقرر کروں تو ابوبکر رضی الله عنہ نے خلیفہ مقرر کیا ہے اور اگر کسی کو خلیفہ نہ مقرر کروں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلیفہ نہیں مقرر کیا ہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث میں ایک قصہ بھی مذکور ہے ۲؎ ، ¤ ۲- یہ حدیث صحیح ہے ، اور کئی سندوں سے ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2225]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر میں کسی کو خلافت کے لیے نامزد کر دوں تو اپنے پیش رو کی اقتداء میں ایسا ہو سکتا ہے، اور اگر نہ مقرر کروں تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اپنا خلیفہ نہیں بنایا تھا۔
۲؎: یہ قصہ صحیح مسلم میں کتاب الإمارہ کے شروع میں مذکور ہے۔
۲؎: یہ قصہ صحیح مسلم میں کتاب الإمارہ کے شروع میں مذکور ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2605)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأحکام 51 (7218)، صحیح مسلم/الإمارة 2 (1823)، سنن ابی داود/ الخراج الإمارة 8 (2939) (تحفة الأشراف: 10521)، و مسند احمد (1/43) (صحیح)