جامع الترمذي حدیث نمبر: 2128
Jami at-Tirmidhi 2128
کتاب #32: کتاب: ولاء اور ہبہ کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعَطَّارُ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَمَا أَلْوَانُهَا؟ "، قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: " فَهَلْ فِيهَا أَوْرَقُ "، قَالَ: نَعَمْ، إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: " أَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ "، قَالَ: لَعَلَّ عِرْقًا نَزَعَهَا، قَالَ: " فَهَذَا لَعَلَّ عِرْقًا نَزَعَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی فزارہ کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری بیوی سے ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے پوچھا : ” وہ کس رنگ کے ہیں ؟ “ اس نے کہا : سرخ ۔ آپ نے پوچھا : ” کیا اس میں کوئی مٹمیلے رنگ کا بھی ہے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، اس میں ایک خاکستری رنگ کا بھی ہے ۔ آپ نے پوچھا : ” وہ کہاں سے آیا ؟ “ اس نے کہا : شاید وہ کوئی خاندانی رگ کھینچ لایا ہو گا ۱؎ ، آپ نے فرمایا : ” اس لڑکے نے بھی شاید کوئی خاندانی رگ کھینچ لائی ہو اور کالے رنگ کا ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2128]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے باپ دادا میں سے کوئی اس رنگ کا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2102)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطلاق 26 (5305)، والحدود 41 (6847)، والإعتصام 12 (7314)، صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، سنن ابی داود/ الطلاق 28 (2260)، سنن النسائی/الطلاق 46 (35090)، سنن ابن ماجہ/النکاح 58 (2200) (تحفة الأشراف: 13129)، مسند احمد (2/234، 239، 409) (صحیح)