جامع الترمذي حدیث نمبر: 2125
Jami at-Tirmidhi 2125
کتاب #32: کتاب: ولاء اور ہبہ کے احکام و مسائل
1: باب مَا جَاءَ أَنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ
باب: ولاء (میراث) کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہے۔
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ، أَوْ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ کو خریدنے ( اور آزاد کرنے ) کا ارادہ کیا تو بریرہ کے گھر والوں نے ولاء ( میراث ) کی شرط رکھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ولاء ( میراث ) کا حق اسی کو حاصل ہے جو قیمت ادا کرے یا آزاد کرنے کی نعمت کا مالک ہو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2125]
💡 وضاحت:
۱؎: ولاء سے مراد وہ حقوق ہیں جو آزاد کرنے والے کو آزاد کئے ہوئے کی نسبت سے حاصل ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2589)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ، وکذا رقم: 1256 (تحفة الأشراف: 15992) (صحیح)