📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نماز کے احکام و مسائل (كتاب الصلاة) 🏷️ باب: باب: جو اذان دے وہی اقامت کہے۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 199 Jami at-Tirmidhi 199
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
34: باب مَا جَاءَ أَنَّ مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ
باب: جو اذان دے وہی اقامت کہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُؤَذِّنَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَأَذَّنْتُ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ قَدْ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ زِيَادٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْأَفْرِيقِيِّ، وَالْأَفْرِيقِيُّ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ، قَالَ أَحْمَدُ: لَا أَكْتُبُ حَدِيثَ الْأَفْرِيقِيِّ، قَالَ: وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يُقَوِّي أَمْرَهُ وَيَقُولُ: هُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ.
زیاد بن حارث صدائی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فجر کی اذان دینے کا حکم دیا تو میں نے اذان دی ، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قبیلہ صداء کے ایک شخص نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی اقامت کہے گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ، ¤ ۲- زیاد رضی الله عنہ کی روایت کو ہم صرف افریقی کی سند سے جانتے ہیں اور افریقی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں ۔ یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے ۔ احمد کہتے ہیں : میں افریقی کی حدیث نہیں لکھتا ، لیکن میں نے محمد بن اسماعیل کو دیکھا وہ ان کے معاملے کو قوی قرار دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ مقارب الحدیث ہیں ، ¤ ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 199]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اس لیے اس کی بنا پر مساجد میں جھگڑے مناسب نہیں، اگر صحیح بھی ہو تو زیادہ سے زیادہ مستحب کہہ سکتے ہیں، اور مستحب کے لیے مسلمانوں میں جھگڑے زیبا نہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (717) // ضعيف سنن ابن ماجة (152)، ضعيف أبي داود (102 / 514)، الإرواء (237)، المشكاة (648)، الضعيفة (35)، ضعيف الجامع الصغير (1377) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف / د 514، جه 717
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة 30 (514) سنن ابن ماجہ/الأذان3 (717) (تحفة الأشراف: 3653) مسند احمد (4/169) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن انعم افریقی ضعیف ہیں)
جامع الترمذي • حدیث #199
197 198 199 200 201
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ