جامع الترمذي حدیث نمبر: 1986
Jami at-Tirmidhi 1986
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
54: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمَمْلُوكِ الصَّالِحِ
باب: نیک سیرت غلام کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ، أُرَاهُ قَالَ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ: عَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ، وَرَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ، وَرَجُلٌ يُنَادِي بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ إِلا مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ، وَأَبُو الْيَقْظَانِ اسْمُهُ عُثْمَانُ بْنُ قَيْسٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ أَشْهَرُ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین آدمی مشک کے ٹیلے پر ہوں گے ، قیامت کے دن ، پہلا وہ غلام جو اللہ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے ، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہوں ، اور تیسرا وہ آدمی جو رات اور دن میں نماز کے لیے پانچ بار بلاتا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے سفیان ثوری کی روایت سے جانتے ہیں ، جسے وہ ابوالیقظان سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۲- ابوالیقظان کا نام عثمان بن قیس ہے ، انہیں عثمان بن عمیر بھی کہا جاتا ہے اور یہی مشہور ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1986]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اذان دیتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (666) // ضعيف الجامع الصغير (2579)، وسيأتي برقم (470 / 2705) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1986) إسناده ضعيف /يأتي 2566 ¤ أبو اليقظان عثمان بن عمير: ضعيف (تقدم:126)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف وأعادہ في صفة الجنة 25 (2566) (تحفة الأشراف: 6718)، وانظر مسند احمد (2/26) (ضعیف) (سند میں أبوالیقظان ضعیف، مختلط اور مدلس راوی ہے، اور تشیع میں بھی غالی ہے)