📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نیکی اور صلہ رحمی (كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: معروف (بھلی بات) کہنے کی فضیلت کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1984 Jami at-Tirmidhi 1984
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
53: باب مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الْمَعْرُوفِ
باب: معروف (بھلی بات) کہنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا تُرَى ظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا، وَبُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا "، فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَدَامَ الصِّيَامَ، وَصَلَّى لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق هَذَا مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَهُوَ كُوفِيٌّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق الْقُرَشِيُّ مَدَنِيُّ، وَهُوَ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا، وَكِلَاهُمَا كَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا “ ، ( یہ سن کر ) ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! کس کے لیے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” جو اچھی طرح بات کرے ، کھانا کھلائے ، خوب روزہ رکھے اور اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں ، اسحاق بن عبدالرحمٰن کے حافظے کے تعلق سے بعض محدثین نے کلام کیا ہے ، یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں ، ¤ ۳- عبدالرحمٰن بن اسحاق نام کے ایک دوسرے راوی ہیں ، وہ قرشی اور مدینہ کے رہنے والے ہیں ، یہ ان سے اثبت ہیں ، اور دونوں کے دونوں ہم عصر ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1984]
💡 وضاحت:
۱؎: خوش کلامی، کثرت سے روزے رکھنا، اور رات میں جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں اللہ کے لیے نماز پڑھنی یہ ایسے اعمال ہیں جو جنت کے بالاخانوں تک پہنچانے والے ہیں، شرط یہ ہے کہ یہ سب اعمال ریاکاری اور دکھاوے سے خالی ہوں۔
قال الشيخ الألباني: حسن، المشكاة (2335)، التعليق الرغيب (2 / 46)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1984) إسناده ضعيف /ياتي: 2527 ¤ عبدالرحمن بن إسحاق الكوفي ضعيف (د 756) وللحديث شواھد ضعيفة عند أحمد (343/5) والطبراني الكبير (301/3ح 3467) وغيرھما وروي الحاكم (80/1ح 270) مرفوعاً بلفظ: ((إن فى الجنة غرفاً يرى ظاھرھا من باطنھا و باطنھا من ظاھر ھا)) فقال أبو مالك الأشعري: لمن يا رسول الله؟ قال: ((لمن أطاب الكلام وأطعم اطعام و بات قائماً والناس نيام)) وسنده حسن وھو يغني عنه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤالف وأعادہ في صفة الجنة 3 (2527) (تحفة الأشراف: 10296) و مسند احمد (1/156) (حسن) (سند میں عبد الرحمن بن اسحاق واسطی سخت ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے)
جامع الترمذي • حدیث #1984
1982 1983 1984 1985 1986
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ