جامع الترمذي حدیث نمبر: 1964
Jami at-Tirmidhi 1964
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ بِشْرِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِيمٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے ، اور فاجر دھوکہ باز اور کمینہ خصلت ہوتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1964]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مومن اپنی شرافت اور سادگی کی وجہ سے دنیاوی منفعت کو منفعت سمجھتے ہوئے اس کا حریص نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات دھوکہ کھا کر اسے نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے، اس کے برعکس ایک فاجر شخص دوسروں کو دھوکہ دے کر انہیں نقصان پہنچاتا ہے جو اس کے کمینہ خصلت ہونے کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، الصحيحة (932)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1964) إسناده ضعيف / د 4790
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 6 (4790) (تحفة الأشراف: 15362)، و مسند احمد (2/394) (حسن)