جامع الترمذي حدیث نمبر: 1962
Jami at-Tirmidhi 1962
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
41: باب مَا جَاءَ فِي الْبُخْلِ
باب: بخیل کی مذمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَالِبٍ الْحُدَّانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِي مُؤْمِنٍ: الْبُخْلُ، وَسُوءُ الْخُلُقِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ صَدَقَةَ بْنِ مُوسَى، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کے اندر دو خصلتیں بخل اور بداخلاقی جمع نہیں ہو سکتیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف صدقہ بن موسیٰ کی روایت سے ہی جانتے ہیں ۔ ¤ ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1962]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ حسن خلق اور خیر خواہی کا نام ایمان ہے، اس لیے جس شخص میں یہ دونوں خوبیاں پائی جائے گی وہ مومن کامل ہو گا، اور ایسا مومن کامل بخیل اور بداخلاقی جیسی بری اور قابل مذمت صفات سے دور ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الضعيفة (1119)، نقد الكتاني (33 / 33) // ضعيف الجامع الصغير (2833) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1962) إسناده ضعيف ¤ صدقة بن موسي:ضعيف (تقدم: 663)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4110) (ضعیف) (سند میں ”صدقہ بن موسیٰ“ حافظہ کے کمزور ہیں)