جامع الترمذي حدیث نمبر: 196
Jami at-Tirmidhi 196
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
31: باب مَا جَاءَ فِي التَّرَسُّلِ فِي الأَذَانِ
باب: اذان کے کلمات ٹھہر ٹھہر کے کہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُنْعِمِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمُنْعِمِ، وَهُوَ إِسْنَادٌ مَجْهُولٌ، وَعَبْدُ الْمُنْعِمِ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ.
اس سند سے بھی عبدالمنعم سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ © جابر رضی الله عنہ کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے یعنی عبدالمنعم ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، اور یہ مجہول سند ہے ، عبدالمنعم بصرہ کے شیخ ہیں ( یعنی ضعیف راوی ہیں ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 196]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جداً ¤ عبد المنعم: متروك (تق:4234) وشيخه يحيى بن مسلم البكاء: ضعيف (تق:7645) وللحديث شواهد ضعيفة عند الحاكم (204/1) وغيره .
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (ضعیف جداً)