📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نماز کے احکام و مسائل (كتاب الصلاة) 🏷️ باب: باب: اقامت دہری کہنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 194 Jami at-Tirmidhi 194
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
30: باب مَا جَاءَ أَنَّ الإِقَامَةَ مَثْنَى مَثْنَى
باب: اقامت دہری کہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: " كَانَ أَذَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَفْعًا شَفْعًا فِي الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ رَأَى الْأَذَانَ فِي الْمَنَامِ، وقَالَ شُعْبَةُ: عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ رَأَى الْأَذَانَ فِي الْمَنَامِ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: الْأَذَانُ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ مَثْنَى مَثْنَى. وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , وَابْنُ الْمُبَارَكِ , وَأَهْلُ الْكُوفَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: ابْنُ أَبِي لَيْلَى هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، كَانَ قَاضِيَ الْكُوفَةِ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا، إِلَّا أَنَّهُ يَرْوِي عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِيهِ.
عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان اور اقامت دونوں دہری ہوتی تھیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عبداللہ بن زید کی حدیث کو وکیع نے بطریق «الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلى» روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن زید نے خواب میں اذان ( کا واقعہ ) دیکھا ، اور شعبہ نے بطریق «عمرو بن مرة عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلى» یہ روایت کی ہے کہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ہم سے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن زید نے خواب میں اذان ( کا واقعہ ) دیکھا ، ¤ ۲- یہ ابن ابی لیلیٰ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۱؎ ، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عبداللہ بن زید سے نہیں سنا ہے ، ¤ ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اذان اور اقامت دونوں دہری ہیں یہی سفیان ثوری ، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا قول ہے ، ¤ ۴- ابن ابی لیلیٰ سے مراد محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ ہیں ۔ وہ کوفہ کے قاضی تھے ، انہوں نے اپنے والد سے نہیں سنا ہے البتہ وہ ایک شخص سے روایت کرتے ہیں اور وہ ان کے والد سے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 194]
💡 وضاحت:
۱؎: مولف کا مقصد یہ ہے کہ: عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کی یہ حدیث تین طرق سے آئی ہے، ایک یہی بطریق «ابن ابی لیلیٰ، عن عمرو بن مرۃ، عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ عن عبداللہ» دوسرے بطریق «الاعمش عن عمرو بن مرۃ، عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ، عن عبداللہ» تیسرے بطریق: «شعبۃ عن عمرو بن مرۃ عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ عن اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم » اور بقول مؤلف آخرالذکر تیسرا طریق زیادہ صحیح ہے، (کیونکہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا عبداللہ بن زید سے سماع نہیں ہے) اور اس کا مضمون (نیز دوسرے کا مضمون بھی) پہلے سے الگ ہے، یعنی صرف خواب دیکھنے کا بیان ہے اور بس۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ محمد بن أبي ليلى ضعيف (د 752) وللحديث شواهد كلها ضعيفة ذكرت بعضها في نيل المقصود (508)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5311) (ضعیف الإسناد) (عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ کا سماع عبداللہ بن زید سے نہیں ہے)
جامع الترمذي • حدیث #194
192 193 194 195 196
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ