📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نماز کے احکام و مسائل (كتاب الصلاة) 🏷️ باب: باب: اذان میں ترجیع کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 191 Jami at-Tirmidhi 191
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
28: باب مَا جَاءَ فِي التَّرْجِيعِ فِي الأَذَانِ
باب: اذان میں ترجیع کا بیان۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي , وَجَدِّي جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّ َّّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقْعَدَهُ وَأَلْقَى عَلَيْهِ الْأَذَانَ حَرْفًا ". قَالَ إِبْرَاهِيمُ: مِثْلَ أَذَانِنَا , قَالَ بِشْرٌ: فَقُلْتُ لَهُ: أَعِدْ عَلَيَّ فَوَصَفَ الْأَذَانَ بِالتَّرْجِيعِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي مَحْذُورَةَ فِي الْأَذَانِ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ بِمَكَّةَ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ.
ابو محذورہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بٹھا کر اذان کا ایک ایک لفظ سکھایا ۔ ابراہیم بن عبدالعزیز بن عبدالملک بن ابی محذورہ کہتے ہیں : اس طرح جیسے ہماری اذان ہے ۔ بشر کہتے ہیں تو میں نے ان سے یعنی ابراہیم سے کہا : اسے مجھ پر دہرائیے تو انہوں نے ترجیع ۱؎ کے ساتھ اذان کا ذکر کیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اذان کے سلسلے میں ابو محذورہ والی حدیث صحیح ہے ، کئی سندوں سے مروی ہے ، ¤ ۲- اور اسی پر مکہ میں عمل ہے اور یہی شافعی کا قول ہے ۲؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 191]
💡 وضاحت:
۱؎: اذان میں شہادتین کے کلمات کو پہلے دو مرتبہ دھیمی آواز سے کہنے پھر دوبارہ دو مرتبہ بلند آواز سے کہنے کو ترجیع کہتے ہیں۔
۲؎: اذان میں ترجیع مسنون ہے یا نہیں اس بارے میں ائمہ میں اختلاف ہے، صحیح قول یہ ہے کہ اذان ترجیع کے ساتھ اور بغیر ترجیع کے دونوں طرح سے جائز ہے اور ترجیع والی روایات صحیحین کی ہیں اس لیے راجح ہیں، اور یہ کہنا کہ جس صحابی سے ترجیع کی روایات آئی ہیں انہیں تعلیم دینا مقصود تھا اس لیے کہ ابو محذورہ رضی الله عنہ جنہیں آپ نے یہ تعلیم دی پہلی مرتبہ اسے دھیمی آواز میں ادا کیا تھا پھر دوبارہ اسے بلند آواز سے ادا کیا تھا، درست نہیں، کیونکہ ابو محذورہ مکہ میں برابر ترجیع کے ساتھ اذان دیتے رہے اور ان کے بعد بھی برابر ترجیع سے اذان ہوتی رہی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (708)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الأذان 3 (630)، (تحفة الأشراف: 12169) (صحیح) (ابو محذورہ رضی الله عنہ کی اس روایت میں الفاظ اذان کا ذکر نہیں ہے، لیکن مجملاً یہ ذکر ہے کہ اذان کو ترجیع کے ساتھ بیان کیا، جب کہ اسی سند سے نسائی میں وارد حدیث میں اذان کے صرف سترہ کلمات کا ذکر ہے، اور اس میں ترجیع کی صراحت نہیں ہے، اس لیے نسائی والا سیاق منکر ہے، کیونکہ صحیح مسلم، سنن نسائی اور ابن ماجہ (708) میں اذان کے کلمات انیس آئے ہیں، دیکھیں مؤلف کی اگلی روایت (192) اور نسائی کی روایت رقم 30 6، 631، 632، 633)
جامع الترمذي • حدیث #191
189 190 191 192 193

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#192 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ ع...
ابو محذورہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اذان کے انیس کلمات ۱؎ او...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ