جامع الترمذي حدیث نمبر: 190
Jami at-Tirmidhi 190
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
27: باب مَا جَاءَ فِي بَدْءِ الأَذَانِ
باب: اذان کی ابتداء کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس وقت مسلمان مدینہ آئے تو وہ اکٹھے ہو کر اوقات نماز کا اندازہ لگاتے تھے ، کوئی نماز کے لیے پکار نہ لگاتا تھا ، ایک دن ان لوگوں نے اس سلسلے میں گفتگو کی ۱؎ چنانچہ ان میں سے بعض لوگوں نے کہا : نصاریٰ کے ناقوس کی طرح کوئی ناقوس بنا لو ، بعض نے کہا کہ تم یہودیوں کے قرن کی طرح کوئی قرن ( یعنی کسی جانور کا سینگ ) بنا لو ۔ ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں : اس پر عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا : کیا تم کوئی آدمی نہیں بھیج سکتے جو نماز کے لیے پکارے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال اٹھو جاؤ نماز کے لیے پکارو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کی ( اس ) روایت سے حسن صحیح غریب ہے ۔ ( جسے بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے ) ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 190]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ گفتگو مدینہ میں صحابہ کرام سے ہجرت کے پہلے سال ہوئی تھی، اس میں بعض لوگوں نے نماز کے لیے ناقوس بجانے کا اور بعض نے اونچائی پر آگ روشن کرنے کا اور بعض نے «بوق» ”بگل“ استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا، اسی دوران عمر کی یہ تجویز آئی کہ کسی کو نماز کے لیے پکارنے پر مامور کر دیا جائے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رائے پسند آئی اور آپ نے بلال کو باواز بلند «الصلاة جامعة» کہنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد عبداللہ بن زید رضی الله عنہ نے خواب میں اذان کے کلمات کسی سے سیکھے اور جا کر خواب بیان کیا، اسی کے بعد موجودہ اذان رائج ہوئی۔
۲؎: دیکھئیے صحیح البخاری حدیث ۶۰۴وصحیح مسلم حدیث ۸۳۷۔
۲؎: دیکھئیے صحیح البخاری حدیث ۶۰۴وصحیح مسلم حدیث ۸۳۷۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 1 (604)، صحیح مسلم/الصلاة 1 (377)، سنن النسائی/الأذان 1 (627)، (تحفة الأشراف: 7775)، مسند احمد (2/148) (صحیح)