جامع الترمذي حدیث نمبر: 1906
Jami at-Tirmidhi 1906
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
8: باب مَا جَاءَ فِي حَقِّ الْوَالِدَيْنِ
باب: اولاد پر ماں باپ کے حقوق کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدًا إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ"، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، وَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ هَذَا الْحَدِيثَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی لڑکا اپنے باپ کا احسان نہیں چکا سکتا ہے سوائے اس کے کہ اسے ( یعنی باپ کو ) غلام پائے اور خرید کر آزاد کر دے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث صحیح ہے ، ہم اسے صرف سہیل بن ابی صالح کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- سفیان ثوری اور کئی لوگوں نے بھی یہ حدیث سہیل بن ابی صالح سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1906]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3659)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/العتق 6 (1510)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 11 (3659) (تحفة الأشراف: 12595)، و مسند احمد (2/230، 263، 276، 445) (صحیح)